Type Here to Get Search Results !

صراط مستقیم

 


صراط مستقیم

تحریر: پروفیسر عامر حسن برہانوی


صراط مستقیم کا لغوی معنی سیدھا راستہ ہے۔ ہر مسلمان دن میں پانچ مرتبہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے صراط مستقیم کی دعا مانگتا ہے۔ تو پہلا سوال تو یہ ہے کہ صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا اللہ سے کیوں مانگی جاتی ہے؟ تو اس لیے کیوں کہ اللہ جسے چاہتا ہے صراطِ مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (البقرہ 142۔ 213۔ انعام 39۔ یونس 25۔ النور 46)

تو پتہ چلا کہ صراط مستقیم کی ہدایت دینا اللہ کا کام ہے۔ اسی لیے ہم ہر نماز میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ صراط مستقیم کی ہدایت عطا فرمائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ صراط مستقیم کی ہدایت کسے دیتا ہے۔ آئیے اس سوال کو قرآن مجید سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید اس حوالے سے کیا کہتا ہے۔ 

سورہ آل عمران کی آیت نمبر 101 میں ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ کے دامن کو مضبوط پکڑ لیتا ہے اسے صراط مستقیم کی طرف ہدایت کی جاتی ہے۔

سورہ النساء کی آیت نمبر 175 میں ارشاد ہے کہ پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو عنقریب (اللہ) انھیں اپنی رحمت اور فضل میں داخل فرمائے گا اور انھیں اپنی طرف (پہنچنے کا) صراط مستقیم دکھائے گا۔

سورہ المائدہ کی آیت نمبر 16 میں ارشاد ہے کہ اللہ اس (رسول) کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا کی پیرو ہیں، سلامتی کی راہوں کی ہدایت فرماتا ہے۔ اور انھیں اپنے حکم سے (کفر و جہالت کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان و ہدایت) کی طرف لے جاتا ہے۔ اور انھیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔

سورہ الحج کی آیت نمبر 54 میں ارشاد ہے کہ اور بے شک اللہ مومنوں کو ضرور صراط مستقیم کی طرف ہدایت فرمانے والا ہے۔ 

ان چار آیات کی روشنی میں واضح ہوا کہ اگر صراط مستقیم کی ہدایت چاہتے ہو تو اپنے اندر چند اوصاف پیدا کرنے پڑیں گے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ انھی اوصاف سے متصف لوگوں کو ہی صراط مستقیم کی ہدایت فرماتا ہے۔ اور یہ اوصاف مندرجہ بالا آیات کی روشنی میں یہ ہیں:

1۔ اللہ پر ایمان لانا

2۔ اللہ کے دامن کو مضبوطی سے تھام لینا۔ اللہ کے دامن سے مراد اللہ کی کتاب ہے۔

3۔ اللہ اور اس کے رسول کی رضا چاہنا

4۔ مومن ہونا

پس اگر صراط مستقیم چاہتے ہو تو یہ اوصاف اپنے اندر پیدا کر لو تو یقیناً اللہ پاک آپ کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت عطا فرمائے گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر صراط مستقیم ہے کیا؟ اس حوالے سے دیکھتے ہیں کہ قرآن کیا ارشاد فرماتا ہے۔

سورہ فاتحہ کی آیت نمبر 7 کے مطابق انعام یافتہ لوگوں کا راستہ صراط مستقیم ہے۔ انعام یافتہ لوگ انبیاء ، مرسلین، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں۔ گویا ان مقدس ذوات کا راستہ ہی سیدھا راستہ یعنی صراط مستقیم ہے۔

سورہ آل عمران کی آیت نمبر 51 ، سورہ زخرف کی آیت نمبر 64 اور سورہ مریم کی آیت نمبر 36 میں ارشاد ہوتا ہے کہ بے شک اللہ میرا رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے۔ پس اس کی عبادت کرو یہی صراط مستقیم ہے۔

سورہ انعام کی آیت نمبر 126 میں ارشاد ہے کہ اور یہ (اسلام ہی) آپ کے رب کا صراط مستقیم ہے۔

سورہ یس کی آیت نمبر 61 میں ارشاد ہے کہ اور یہ کہ میری عبادت کرتے رہنا یہی صراط مستقیم ہے۔

سورہ زخرف کی آیت نمبر 61 میں ارشاد ہے کہ اور بے شک وہ (عیسیٰ علیہ السلام) قیامت کی علامت ہوں گے، پس تم ہرگز اس میں شک نہ کرنا اور میری پیروی کرتے رہنا یہی صراط مستقیم ہے۔

ان تمام آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت یعنی اطاعت اور بندگی کرنا ہی دراصل صراط مستقیم ہے۔ پس یہ عبادت انبیاء ، مرسلین، صدیقین اور صالحین کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کریں کہ یہی صراط مستقیم ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.