عبادت کی اہمیت
تحریر : پروفیسر عامر حسن برہانوی
عبادت اس خالق ارض و سما کی اطاعت کا نام ہے جس نے اپنے بندے کو وجود کی دولت بخشی۔ گویا عبادت اپنے وجود کے شکرانے کا نام ہے۔ پس عبادت اس لیے کی جائے تاکہ خالق حقیقی کا شکر ادا کیا جا سکے۔
عبادت اس رب العالمین کی اطاعت کا نام ہے جو اپنے بندے کی روحانی و جسمانی نشوونما اس طریقے سے کرتا ہے کہ اسے نکتۂ آغاز سے نکتۂ کمال تک پہنچاتا ہے۔ گویا عبادت اپنے وجود کی حقیقت کو سمجھنے اور اپنے پالنے والے کی معرفت کا نام ہے۔ پس عبادت اس لیے کی جائے تاکہ رب العالمین کی ربوبیت کا عرفان حاصل ہو۔
عبادت اس قادر مطلق ہستی کی اطاعت کا نام ہے جس کے سامنے انسان عاجز اور بے بس ہے۔ گویا عبادت انسان کی عاجزی کا اظہار ہے۔ پس عبادت اس لیے کی جائے تاکہ انسان کو اپنے کمزور ہونے کا اور اپنے خدا کے قادر ہونے کا احساس پیدا ہو۔
عبادت اس خیر الرازقین کی اطاعت کا نام ہے جس نے انسانی جسم کے لیے زمین سے رزق کا بندوبست کیا اور انسانی روح کے لیے آسمان سے مائدہ نازل فرمایا۔ گویا عبادت اپنے رازق حقیقی کی طرف رجوع کرنے اور زمینی خداؤں کے سامنے ڈٹ جانے اور ان کے خلاف عَلم بغاوت بلند کرنے کا نام ہے۔ پس عبادت اس لیے کی جائے تاکہ اپنے نمک حلال ہونے کا ثبوت ہو۔
عبادت اس ستار کی اطاعت کا نام ہے جو اپنے بندے کے گناہوں اور عیبوں کو چھپاتا ہے۔ گویا عبادت اپنے گناہ گار اور عیب دار ہونے کا اعتراف ہے۔ پس عبادت اس لیے کی جائے تاکہ بندہ اپنے خدا سے معافی کا خواستگار ہو۔
عبادت صرف خدا کا حق نہیں ہے بلکہ بندے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی ضرورت جو انسان کو انسان بناتی ہے اور خدا کے عرفان کا راز بتلاتی ہے۔

