Type Here to Get Search Results !

عقل اور وحی



 عقل اور وحی

تحریر : پروفیسر عامر حسن برہانوی


عقل کی عموماً یہ تعریف کی جاتی ہے کہ وہ قوت جو اشیاء میں موجود حُسن اور قبح میں تمیز کرتی ہے۔ نفع اور نقصان کو الگ کرتی ہے۔ یہ تعریف کسی بھی حوالے سے کامل نہیں ہے کیوں کہ عقل کے پاس وہ کون سا معیار ہے جس کی روشنی میں وہ حُسن اور قبح میں تمیز کرے۔ وہ کون سی شے ہے جس سے عقل نے جانا کہ نفع کیا ہے اور نقصان کیا ہے۔ ہر دور میں، ہر معاشرے میں نفع اور نقصان کے مختلف نظریات اور زاویوں کی وجہ سے معانی الگ الگ ہیں۔ چناں چہ ایک معاشرے میں نفع کا معنی ایک زاویے میں کچھ اور ہوتا ہے تو دوسرے معاشرے میں نفع کا معنی دوسرے زاویے میں کچھ اور ہوتا ہے۔ تو پتہ چلا کہ عقل بذاتِ خود نفع اور نقصان کو طے نہیں کر سکتی۔ بلکہ اسے کسی نہ کسی معیار کی ضرورت ہے۔ اسے ایک کامل علم کی ضرورت ہے جس کی روشنی میں وہ اشیاء کی معرفت حاصل کر سکے۔ پس ثابت ہوا کہ عقل کی یہ تعریف نامکمل ہے۔


تو پھر عقل کی تعریف کیا ہے؟ عقل مخاطب رب العالمین ہے۔ عقل اللہ تعالیٰ کی لاتعداد مخلوقات میں سے وہ واحد مخلوق ہے جس سے اللہ نے خطاب فرمایا ہے۔ پس عقل کا کام یہ ہے کہ وہ خدا کی آواز کو سنے۔ اس کے خطاب کو سمجھے اور اس میں غور وفکر کرے۔ اور خدا کا کلام اور خطاب ہی وہ معیار ہے جس کی روشنی میں عقل اشیاء کی معرفت حاصل کرتی ہے۔ نفع اور نقصان میں تمیز کرتی ہے۔ اشیاء میں موجود حُسن اور قبح کی نشان دہی کرتی ہے۔ اس گفتگو سے ثابت ہوا کہ عقل کی تخلیق کا مقصد خدا کے خطاب کو سننا اور سمجھنا ہے۔


وحی کیا ہے؟ وحی ایک خفیہ اشارہ ہے۔ یہ اشارہ خدا کی طرف سے عقل کی طرف ہوتا ہے۔ وحی خدا کا خطاب اور کلام ہے۔ یہی وہ خطاب ہے جسے سننے اور سمجھنے کے لیے عقل کو تخلیق کیا گیا ہے۔


انسان گمراہ کب ہوتا ہے؟ جب انسان وحی اور عقل میں سے کسی ایک کو چھوڑ دے تو وہ گمراہ ہو جاتا ہے۔ اگر انسان محض عقل کو اپنا لے اور وحی کو چھوڑ دے تو اپنی منزل کا نام و نشان بھی نہیں پا سکتا۔ اگر وحی کو پکڑ لے اور عقل کو چھوڑ دے (یعنی وحی میں غور و فکر اور تدبر نہ کرے) تو بھی اپنی منزل کو نہیں پا سکتا۔


عقل اور وحی کا رشتہ کیا ہے؟ عقل کی مثال تیز رفتار گھوڑا ہے۔ وحی کی مثال راستوں اور منزل پر مشتمل ایک نقشہ ہے۔ انسان کے لیے منزل تک پہنچنے کے لیے یہ دونوں چیزیں بہت ضروری ہے۔ وحی ہدایت دیتی ہے۔ عقل ہدایت کی تشریح کرتی ہے۔ اگر وحی نہ ہو تو عقل کی تخلیق بے معنی ہو جائے۔ اگر عقل نہ ہو تو وحی ہدایت کسے کرے؟ پس ثابت ہوا کہ عقل اور وحی لازم و ملزوم ہیں۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.