Type Here to Get Search Results !

شیاطین کن پر نازل ہوتے ہیں



 شیاطین کن پہ نازل ہوتے ہیں
تحریر: پروفیسر عامر حسن برہانوی

شیاطین اللہ تعالی کی اپوزیشن جماعت ہے جن کا کام اولاد آدم کو خدا کی معرفت اور اس کے پیغام سے دور کرنا ہے۔ یہ جماعت انسانوں پہ نازل ہوتی ہے اور طرح طرح کے وسوسے ان کے کانوں میں ڈالتی ہے۔ اس جماعت کے سرکردہ ( ابلیس ) نے روز اول ہی یہ کہہ دیا تھا کہ جو اللہ کے ساتھ مخلص ہوں گے ان پہ میرا کوئی زور نہ چل سکے گا۔ آج اس موضوع کو ضبط تحریر میں لانے کا مقصد یہ دیکھنا کہ وہ کون سے لوگ جن پہ شیاطین نازل ہوتے ہیں اور ان پہ حملہ آور ہوتے ہیں اور کس طرح وہ لوگ معاشرے میں بربادی پھیلاتے ہیں۔
اس حوالے سے قرآن مجید کی آیات سے مدد لی گئی ہے۔ قرآن ارشاد فرماتا ہے : 
هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ عَلٰى مَنۡ تَنَزَّلُ الشَّيٰـطِيۡنُؕ
کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کن پہ نازل ہوتے  ہیں؟
تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍۙ
وہ ہر جھوٹے (بہتان طراز) گناہگار پر اترا کرتے ہیں۔
(الشُّعَرَآء آیت نمبر 221-222)
ان آیات میں اللہ سبحانہ و تعالی نے واضح فرما دیا کہ جھوٹے اور گنہگار لوگوں پہ شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں۔ اب اس بات کو مزید واضح کرتے ہیں افاك اثيم یعنی جھوٹے اور گنہگار لوگ کون ہوتے ہیں۔ تو قرآن ارشاد فرماتا ہے: 
وَيۡلٌ لِّـكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍۙ
ہر بہتان تراشنے والے کذّاب (اور) بڑے سیاہ کار کے لئے ہلاکت ہے
يَّسۡمَعُ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُتۡلٰى عَلَيۡهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسۡتَكۡبِرًا كَاَنۡ لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا‌ۚ فَبَشِّرۡهُ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ‏
جو اللہ کی (اُن) آیتوں کو سنتا ہے جو اُس پر پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں پھر (اپنے کفر پر) اصرار کرتا ہے تکبّر کرتے ہوئے، گویا اُس نے انہیں سنا ہی نہیں، تو آپ اسے دردناک عذاب کی بشارت دے دیں
(الْجَاثِيَة آیت نمبر 7-8)
پس ان آیات کی روشنی میں واضح ہو گیا کہ جو لوگ قرآنی آیات کو سنتے ہیں اور پھر انہیں جھٹلا دیتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو افاك اثيم کے دائرے میں آتے ہیں۔ ان کے لیے ہلاکت ہے اور درد ناک عذاب ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ان پہ شیاطین نازل ہو کر کس طرح انہیں اپنا آلۂ کار بناتے ہیں۔ اس سے پہلے ہم نے سورہ شعراء کی آیت نمبر 221 اور 222 دیکھی اب 223 میں قرآن ارشاد فرماتا ہے:
يُلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَؕ
جو سنی سنائی باتیں (ان کے کانوں میں) ڈال دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں
( الشُّعَرَآء آیت نمبر 223 )
شیاطین ایسے لوگوں کے کانوں میں جھوٹی باتیں ڈالتے ہیں۔ ایسے لوگ انہی جھوٹی اور من گھڑت باتوں کو ہی سچ مان لیتے ہیں اور اس پہ عمل کرتے اور اسے آگے پھیلا کر معاشرہ میں تباہی و بربادی کا باعث بنتے ہیں۔
ان آیات سے ہمارے لیے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم شیاطین کے نزول کا شکار نہ ہوں اور ان کے وسوسوں سے بچے رہیں تو ہمیں قرآنی آیات کو سننا ، سمجھنا اور ان پہ ایمان لانا ہو گا۔ ان پہ عمل کرنا اور ان کو پھیلانا ہو گا تاکہ ہم صراط مستقیم پہ گامزن ہو سکیں۔ 
دعا ہے کہ اللہ سبحان و تعالی ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.